Politicians and Election, Vote in Freedom, Actively Participate in Democracy, Vote for Change, Online referendum
left right close

Benazir Bhutto

> Pakistan > Politicians > Pakistan Peoples Party > Benazir Bhutto
Benazir Bhutto is ready for your opinion, support and vote. Vote online NOW!
PPP
 
photo بینظیر بھٹو

بینظیر بھٹو - for

ایک پاکستانی سیاستدان اور سیاستدان تھے. | Was a Pakistani politician and stateswoman. Died in 2007.
 NO! بینظیر بھٹو

بینظیر بھٹو - against

پر کلک کریں ، اگر آپ کو بے نظیر بھٹو کی حمایت نہیں کرتے. باتیں کیوں کہتے ہو. | Click, if you do not support Benazir Bhutto. Say why.

Online election results for "بینظیر بھٹو " in graph.

graph
Graph online : Benazir Bhutto
Full functionality only if Javascript and Flash is enabled
> Benazir Bhutto >

Biography

[+] ADD

URD:

 

بینظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں۔ پہلی بار آپ 1988ء میں پاکستان کی وزیراعظم بنیں لیکن صرف 20 مہینوں کے بعد اس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے بے پناہ بدعنوانی کے باعث اپنے خصوصی اختیارت کو استعمال کرتے ہوئے اسمبلی کو ختم کرتے ہوئے نئے الیکشن کروائے۔

 

بینظیر بھٹو کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی صاحبزادی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو 21 جون، 1953 میں سندھ کے مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں۔ بینظیر بھٹو نے ابتدائی تعلیم Lady Jennings Nursery School اور Convent of Jesus and Mary کراچی میں حاصل کی۔ اس کے بعد دو سال Rawalpindi Presentation Convent میں بھی تعلیم حاصل کی، جبکہ انھیں بعد میں مری کے Jesus and Mary میں داخلہ دلوایا گیا۔ انھوں نے 15 سال کی عمر میں او لیول کا امتحان پاس کیا۔ اپریل 1969ء میں انھوں نے ہارورڈ یونیورسٹی کے Radcliffe College میں داخلہ کیا۔ بے نظیر بھٹو نے Harvard University سے 1973 میں پولیٹیکل سائنس میں گریجوایشن کر لیا۔ اس کے بعد انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے فلسفہ، معاشیات اور سیاسیات میں ایم اے کیا۔ وہ اکسفورڈ یونیورسٹی میں دیگر طلبا کے درمیان کافی مقبول رہیں

 

حالات زندگی

بینظیر برطانیہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جون 1977ء میں اس ارادے سے وطن واپس آئیں کہ وہ ملک کے خارجہ امور میں خدمات سر انجام دیں گی۔ لیکن ان کے پاکستان پہنچنے کے دو ہفتے بعد حالات کی خرابی کی بنا پر حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو جیل بھیجنے کے ساتھ ساتھ ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اور ساتھ ہی بے نظیر بھٹو کو بھی گھر کے اندر نظر بند کر دیا گیا۔ اپریل 1979ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک متنازعہ کیس میں پھانسی کی سزا سنا دی۔ ١٩٨١ میں مارشل لاء کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ایم آر ڈی کے نام سے اتحاد بنایا گیا۔ جس میں آمریت کے خلاف ١٤ اگست ١٩٨٣ سے بھر پور جدوجہد شروع کی، تحریک کی قیادت کرنے والے غلام مصطفٰی نے دسمبر ١٩٨٣ میں تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کیا، لیکن عوام نے جدوجہد جاری رکھی۔ ١٩٨٤ میں بے نظیر کو جیل سے رہائی ملی، جس کے بعد انھوں نے دو سال تک برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ اسی دوران پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے انھیں پارٹی کا سربراہ بنا دیا۔ ملک سے مارشل لاء اٹھوائے جانے کے بعد جب اپریل ١٩٨٦ میں بے نظیر وطن واپس لوٹیں تو لاہور ائیرپورٹ پر ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو ١٩٨٧ میں نواب شاہ کی اہم شخصیت حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے روشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی جدوجہد کا دامن نہیں چھوڑا۔ ١٧ اگست ١٩٨٨ میں ضیاءالحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے تو ملک کے اندر سیاسی تبدیلی کا دروازہ کھلا۔ سینٹ کے چئیرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ جس نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ ١٦ نومبر ١٩٨٨ میں ملک میں عام انتخابات ہوئے، جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں۔ اور بے نظیر بھٹو نے دو دسمبر ١٩٨٨ میں ٣٥ سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست 1990ء میں بیس ماہ کے بعد صدر اسحاق خان نے بے نظیر کی حکومت کو بے پناہ بدعنوانی اور کرپشن کی وجہ سے برطرف کر دیا۔ 2 اکتوبر 1990ء کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے جس میں مسلم لیگ نواز اور بے نظیر حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا۔ جس کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیراعظم بن گئے۔ جبکہ بے نظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔ 1993ء میں اس وقت کے صدر نے غلام اسحاق خان کے نواز شریف کی حکومت کو بھی بد عنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا۔ جس کے بعد اکتوبر 1993ء میں عام انتخابات ہوئے۔ جس میں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئیں اور بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیرِاعظم بن گئیں۔ پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر فاروق احمد خان لغاری نے 1996ء میں بدامنی اور بد عنوانی,کرپشن اور ماورائے عدالت قتل کے اقدامات کے باعث بے نظیر کی حکومت کو برطرف کر دیا۔

 

ذرائع

 

 

ENG:

 

Benazir Bhutto (Sindhi: بينظير ڀٽو; Urdu: بے نظیر بھٹو‎, 21 June 1953 – 27 December 2007) was a politician and stateswoman who served as the 11th Prime Minister of Pakistan in two non-consecutive terms from November 1988 until October 1990, and 1993 until her final dismissal on November 1996. She was the eldest daughter of Zulfikar Ali Bhutto, a former prime minister of Pakistan and the founder of the Pakistan People's Party (PPP), which she led.

 

In 1982, at age 29, Benazir Bhutto became the chairwoman of PPP – a centre-left, democratic socialist political party, making her the first woman in Pakistan to head a major political party. In 1988, she became the first woman elected to lead a Muslim state and was also Pakistan's first (and thus far, only) female prime minister. Noted for her charismatic authority and political astuteness, Benazir Bhutto drove initiatives for Pakistan's economy and national security, and she implemented social capitalist policies for industrial development and growth. In addition, her political philosophy and economic policies emphasised deregulation (particularly of the financial sector), flexible labour markets, the denationalisation of state-owned corporations, and the withdrawal of subsidies to others. Benazir Bhutto's popularity waned amid recession, corruption, and high unemployment which later led to the dismissal of her government by conservative President Ghulam Ishaq Khan.

 

In 1993, Benazir Bhutto was re-elected for a second term after the 1993 parliamentary elections. She survived an attempted coup d'état in 1995, and her hard line against the trade unions and tough rhetorical opposition to her domestic political rivals and to neighbouring India earned her the nickname "Iron Lady"; she was also respectfully referred to as "B.B." In 1996, the charges of corruption levelled against her led to the final dismissal of her government by President Farooq Leghari. Benazir Bhutto conceded her defeat in the 1997 Parliamentary elections and went into self-imposed exile in Dubai, United Arab Emirates in 1998.

 

After nine years of self-exile, she returned to Pakistan on 18 October 2007, after having reached an understanding with President Pervez Musharraf, by whom she was granted amnesty and all corruption charges were withdrawn. Benazir Bhutto was assassinated in a bombing on 27 December 2007, after leaving PPP's last rally in the city of Rawalpindi, two weeks before the scheduled 2008 general election in which. she was a leading opposition candidate. The following year, she was named one of seven winners of the United Nations Prize in the Field of Human Rights.

 

source

September 14, 2010

updated: 2013-03-25

ElectionsMeter is not responsible for the content of the text. Please refer always to the author. Every text published on ElectionsMeter should include original name of the author and reference to the original source. Users are obliged to follow notice of copyright infringement. Please read carefully policy of the site.

If the text contains an error, incorrect information, you want to fix it, or even you would like to mange fully the content of the profile, please contact us. contact us..


 
беназир бхутто, Benazir Bhutto sham election, benazir bhutto with quotation, bhutto, benazir bhutto sayings, Benazir bhutto biografia, benazir bhutto pics and more...
load menu